ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’’مشرق وسطی میں امریکہ کی حکمت عملی کی منطق‘‘ مناما، بحرین میں سیکریٹری دفاع ایش کارٹر کا خطاب

’’مشرق وسطی میں امریکہ کی حکمت عملی کی منطق‘‘ مناما، بحرین میں سیکریٹری دفاع ایش کارٹر کا خطاب

Tue, 13 Dec 2016 12:59:14    S.O. News Service

 نئی دہلی 13/  دسمبر (ایس او نیوز) بحرین کے شہر مناما میں سنیچر کوامریکہ کے سیکریٹری دفاع ایش کارٹرنے  ’’مشرق وسطی میں امریکہ کی حکمت عملی کی منطق‘‘  پر جو خطاب کیا تھا، اُس کا اُردو ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ اُن کے خطاب کا اُردو ترجمہ امریکن ایمبیسی (نئی دہلی) کی طرف سے بذریعہ ای میل موصول ہوا ہے، جسے یہاں ہو بہو شائع کیا جارہا ہے۔

اچھا، اس تعارف پر آپ کا شکریہ۔ آپ سے دوبارہ ملاقات، اس اہم آئی آئی ایس ایس کے فورم سے خطاب کرنا اور اس کمرے میں موجود اتنے بہت سے اچھے دوستوں، اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ، دوبارہ بحرین آنا بہت اچھا لگا ہے۔

میں دو ہفتوں کے دنیا بھر کے دورے کے درمیان میں ہوں، جس کے دوران میں، تعطیلات قریب آنے پر بحرالکاہل ایشیا، مشرقِ وسطی اور یورپ میں امریکی افواج سے مل رہا ہوں - اس کے علاوہ میں ہر علاقے میں امریکہ کے سب سے ثابت قدم اور وفادار دوستوں اور اتحادیوں میں سے کچھ سے بھی ملاقات کر رہا ہوں۔

یہ ایسا دورہ ہے جو ان پانچ فوری، واضح اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کی نمائںدگی کرتا ہے جن کا سامنا امریکہ کی فوج کے جوانوں اور خواتین کو آج کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ روسی جارحیت اور دباؤ کے امکان کا مقابلہ کر رہے ہیں خصوصاً یورپ میں۔ وہ بحرالکاہل ایشیا میں تاریخی تبدیلی کی نگرانی کر رہے ہیں جو کہ امریکہ کے مستقبل کا واحد اہم ترین علاقہ ہے۔ وہ جنوبی کوریا کی مسلسل جاری ایٹمی اور میزائل اشتعال انگیزی کے خلاف ہماری مزاحمتی اور دفاعی افواج کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اور یہاں مشرقِ وسطی میں وہ ایران کی جارحیت اور ضرر رساں اثر و رسوخ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کا دفاع کرنے میں مدد کر رہے ہیں. وہ دہشت گردی کا انسداد کر رہے ہیں اور داعش کی یقینی اور پائیدار شکست کو تیزتر کر رہے ہیں۔ اور اسی دوران اس پیچیدہ حال کا مقابلہ کرتے ہوئے، وہ ایک غیر یقینی مستقبل سے نپٹنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں-  اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ امریکہ کی فوج ان چیلنجوں کے لیے تیار ہو جن کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ ہم ابھی اندازہ نہ لگا سکیں۔

جاپان، بھارت اور افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد، میں اب یہاں مشرقِ وسطی میں بہت سی جگہوں پر روکوں گا۔ اور آج میں آپ سے اس علاقے کے بارے میں امریکہ کے نقطہ نظر کے بارے میں بات کروں گا اور اس بات کی اہمیت کے بارے میں کہ اسے جاری کیوں رہنا چاہیے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد میرا پہلا غیر ملکی دورہ مشرقِ وسطی کا تھا اور یہ میرا سیکریٹری دفاع کے طور پر علاقے کا ساتواں دورہ ہے۔ اور بہت سے دوسرے امریکی دفاعی اہلکاروں کی طرح، یہ میرے طویل کیرئر کے دوران ایسے بہت سے دوروں میں سے تازہ ترین ہے - یہ میرے شعبہ کی طرف سے اس علاقے کے لیے اپنے عہد اور قیادت کی گواہی دیتا ہے۔

درحقیقت، امریکہ کے محکمہ دفاع کی مشرق وسطی میں تقرری اور شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے - نہ صرف حکمت عملی کے تحت بلکہ ذاتی طریقوں پر بھی۔ امریکی افواج اور شعبہ دفاع کے شہریوں کی نسلوں نے یہاں پر وقت گزارا ہے۔ کئی دیہائیوں سے، امریکہ کے فوجیوں اور علاقے کے ممالک نے مشترکہ مشقوں میں اکٹھے تربیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے جنگی کالجوں میں اکٹھے پڑھا ہے۔ انہوں نے علاقے بھر میں - زمین، فضاء اور سمندر میں اکٹھے خدمات سر انجام دی ہیں۔ اور انہوں نے میدانِ جنگ میں اکٹھے قربانیاں بھی دی ہیں۔ اس سب کے دوران انہوں نے تعلقات قائم کیے ہیں  - فوجی سے فوجی، سیلر سے سیلر، ایرمین سے ایرمین، میرین سے میرین - جو کہ زندگی بھر قائم رہیں گے، جن سے ہماری شراکت داری مضبوط ہوئی ہے جیسے جیسے وہ ہماری افواج میں ترقی کرتے گئے ہیں۔

آج، یہ علاقہ امریکی افواج کا مضبوط گڑھ ہے جو کہ 58,000 امریکی اہلکاروں پر مشتمل ہے جو کہ زمین اور سمندر میں تعینات ہیں۔ جن میں سے تقریبا 5,000 عراق اور شام میں میدان میں موجود ہیں -ان کے ساتھ ہی ہمارے انتہائی قابل فضائی، زمینی، بحری اور بلاسٹک میزائل دفاع کے اثاثے بھی موجود ہیں۔ یہ افواج نہ صرف داعش اور القائدہ جیسے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اشتعال کو ختم اور ہمارے مفادات اور اتحادیوں کی حفاظت بھی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بحران کی صورت میں، یہاں پر موجود بڑی فوج کے ساتھ انتہائی سرعت سے افواج کی بڑی تعداد علاقے میں صف آراء ہو سکتی ہے جن کے پاس انتہائی جدید اسلحے کے ساتھ ساتھ جدید ترین صلاحیتں اور پلیٹ فارم موجود ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی حدف ناقابلِ رسائی نہیں ہے۔

ان سب کی وجہ اور مشرق وسطی میں امریکہ کی حکمت عملی کی منطق، اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے بیان کرنے میں کچھ وقت صرف کیا جائے۔ یہ بہت ہلچل، افراتفری اور اندورنی ہنگامہ آرائی کا علاقہ بن سکتا ہے  -یہ چیلنج علاقے سے باہر نکل سکتے ہیں جس میں دہشتگردی کی شکل بھی شامل ہے - دنیا میں کسی بھی علاقے سے زیادہ امکانی طور پر۔ مگر اس افراتفری کے باجود، میں آپ کو اس بات کا یقین دلا سکتا ہوں کہ محکمہ دفاع ہمارے مشن کے بارے میں واضح اور حتمی رائے رکھتا ہے: یہ امریکہ کے قومی مفادات کا تحفظ اور انہیں حاصل کرنا ہے۔ وہ ہمارا شمالی ستارہ ہیں  -مشرق وسطی میں امریکہ کی حکمت عملی کے لیے مشعلِ راہ۔

ہمارے مفادات میں سے پہلے اور اہم بات اپنے لوگوں کا دفاع ہے۔ اور اس کے بعد وہ کچھ ایسے ہیں: اشتعال انگیری کو ختم کرنا، اپنے اتحادیوں اور دوستوں کی علاقے بھر میں سیکورٹی کو بڑھانا، گلف میں اور اس کے قرب وجوار میں نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنانا، بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور ایران کی عدام استحکام کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور اس کے علاوہ  -امریکہ کے عوام کی حفاظت سے براہ راست جڑی ہیں- دہشت گردی  اور متقدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا جس میں اس وقت خصوصی طور پر داعش کو شکست دینا شامل ہے۔

اب مجھے یہ کہنے کی ضرورت ہے- اور یہ یہاں بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا دنیا میں کسی اور جگہ پر - کہ امریکہ کے مفادات ہمیشہ وہ نہیں ہوتے جو علاقے کے ملکوں کے انفرادی طور پر ہوتے ہیں- نہ ہی وہ ان کے اپنے درمیان یکساں ہوتے ہیں۔ مگر اکثر و بیشتر وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں یا اکٹھے ساتھ چل سکتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ امریکہ کے لیے اچھا ہے اور یہاں کے بہت سے ممالک کے لیے بھی اچھا ہے۔ اور ہمارے مفادات ایک جیسے اتنی دفعہ ہوئے ہیں کہ ہم موثر طریقے سے کام کرنے کے زیادہ سے زیا


Share: